برطانوی وزیر اعظ٘م ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ برطانوی
معاشرے میں مسلم خواتین کو تعصب اور صنفی امتیاز' سے بچانے کے لئے انگریزی سکھانے کی کوشش میں اضافہ کرنا ہوگا۔
کیمرون نے لندن کے مقامی اخبار "دی ٹائمز" میں لکھے گئے ایک کالم میں کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خواتین پر "نقصان دہ اثر" رکھنے والے قلیل تعداد میں موجود مسلم مردوں کے "پسماندہ رویوں" کا مقابلہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ "اطاعت گزاری کی وجہ سے لوگ علاحدگی میں شخصیت سازی کے ناقص خیال کے پیروکار بن جاتے ہیں۔" کنزرویٹو پارٹی [قدامت پسند] کے رہنما نے مختلف کمیونیٹیز کی خواتین کے لئے 20 ملین پائونڈ کا فنڈ جاری کیا ہے جس کے ذریعے سے معاشرے سے الگ رہنے والی خواتین کو معاشرے کا فعال حصہ بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنے پر مجبور کیا جائے گا ورنہ انہیں برطانیہ سے نکالا جاسکتا ہے۔
کیمرون کا کہنا تھا کہ ایک نئے اندازے کے مطابق تقریبا ایک لاکھ 90 ہزار مسلمان خواتین یا 22 فیصد خواتین برطانیہ میں کئی عشروں تک رہنے کے باوجود بہت تھوڑی یا بالکل ہی انگریزی نہیں جانتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 40٫000 خواتین تو سرے سے انگریزی ہی نہیں جانتی۔
"ان اعداد وشمار کو دیکھنے کے بعد یہ بات ہمارے لئے حیرت کا باعث نہیں ہے کہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد خواتن کا 60 فی صد حصہ معیشت میں بالکل حصہ نہیں ڈالتا ہے۔"
کیمرون نے اس معاملے کو شدت پسندی کے ساتح جوڑتے ہوئے کہا کہ علاحدگی میں شخصیت سازی کی وجہ سے تارکین وطن کی دوسری نسل ذاتی وابستگی کے لئے کوئی اور جگہ ڈھونڈنے لگے۔
ان کا کہنا تھا "ہمیں پسماندہ رویے اور اپنی بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں پر نقصان دہ اثر رکھنے والے مردوں کی اس قلیل تعداد سے نمٹنا ہوگا۔ اور ہمیں اطاعت گزار رویے کے سامنے حقائق سے گھبرانا نہیں چاہئیے ہے۔"

No comments:
Post a Comment