اسرار احمد خان، لوٹن
14 دسمبر
" مارشل مکلؤہان جن کو کمیونیکیشن اور میڈیا سٹڈ یز کا موجد اور انفارمیشن ایج کا استاد مانا جاتا ہے - اپنی کتاب "انڈرسٹیڈنگ میڈیا " میں لکتھے ہیں کہ میڈیا محاشرہ اور ثقافت کو پھلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ انسا ن کی وسحت کا ذریحہ ہے – میڈیا میڈیم کی جمح ہے جس کے محنی آلہ، ذریحہ اور وسیلہ کے ہیں جیسے ریڈیو، ٹی وٰی ٹیلی فون اور سمارٹ فونز ہیں جن کے بدولت ہم میسج ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک میسج کو بہت سے لوگوں تک پہچانے میں کامیاب ہوتے ہیں –
میڈیا صرف محاشرےکا آینہ ہی نہیں ہوتا بلکہ سماجی
تبدلی اور لوگوں کی راے بنانے کا ذریحہ بھی ہوتا ہے – جس کا سب سے اہم کام لوگوں کو انفارمیشن اور تحلیم دینا - مھاشرے کے مختلف اؑعضاء کے درمیان رابطے اور پرفارمنس کو بہتر بنانا اور بحیر کسی خوف اور مدد کے حقاٰ ئق کی چھان بین کرنا اور ان کو پوری ذمہ داری اور احسن طریقے سے لوگوں کو پیش کرنا شامل ہے۔
اس صدی کو انفارمیشن کی صدی کہا جاتا یے اور میڈیا اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور سوشل میڈیا اس کا ایف ۱۶ لٖڑاکا جہاز جو ایک سیکنڈ میں انفارمیشن کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہچانے کی صلاحیت رکھتا ۔۔۔۔
پاکستان اور ہندوستان میڈ یا کی جب بات آتی ہے تو پھر 65 ، 71 اور 99 کی پاک بھارت جنگ بھی یاد آ جاتی ہے – اور جب جنگ کی بات اتی ہے تو "وولٹر لپمینن کی بات بھی یاد آ جاتی ہے وہ یہ کہتا یے کہ جنگ کے دوران جو کچھ بھی دشمن کی طرف سے کہا جاتا ہے وہ پرو پیگینڈ ہوتا ہے اور جو کچھ اپنی طرف سے کہا جائے وہ سچ اور صحیح ہوتا ہے اور اس میں انسانیت اور امن کا پیحام ہوتا یے" --
برحال اج کے دور کی جنگ دو طرح کے محاذ پر لڑی جاتی ہے ایک میدان جنگ میں اور دوسری لوگوں کے ذہنوں میں میڈیا پروپیگینڈا کے ذریحے اور جس ملک کا جتنا اچھا میڈیا پروپیگنڈا ہوتا یے وہ جنگ میں نفسیاتی طور پر حاوی ہوتا ہے۔ پاک بھارت تحلقات کے رشتے بھی اسی جنگ کے محتاج ہوتے ہیں اچھے ہوں تب بھی ، بڑے ہوں تب بھی ۔۔۔ "ہارٹ اف ایشیا " کانفرنس کے موقح پر دونون ممالک کے درمیان تحلقات کو بہتر رکھنے کی کوشش پر مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا ان مذاکرات کو جو پہلے "کمپوزٹ" (مربوط) اور پھر " رزیوم " ( ازسر نو) ڈائیلاگ کہلائے ، اب "کمپری ہینسیو" ( جامح) ڈائیلاگ کہا گیا- دونون ممالک کے مشترکہ اعلامیے اور میڈیا بریفنگ سےظاہر ہوتا ہے ان مذاکرات میں کشمیر، وولر بیراج، سیاچن، دشت گردی، اور اقتٖصادی و تجارتی جیسے امور پر بات ہو گی۔۔۔
ساری باتوں کی ایک بات جو دونوں مما لک کے درمیان تناؤ
کی بنیادی جڑ ہے وہ ہے کشمیر کا مسلہ اور کشمیر ایک ایسا سلگتا ہوا مسلہ ہے جو کبھی بھی "ہارٹ اف ایشیا" کو ہیٹ اف ایشیا میں بد ل سکتا ہے۔ اس مسلہ کے پور امن ، پائیدار اور جمعوری حل کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری عوام کو بھی ان مزاکرات کے عمل میں شامل کیا جائے اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق اس کا حل تلاش کیا جاے۔۔ اور اگر دونون ممالک ایسے کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطہ میں امن و آشتی کے ساتھ ساتھ لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہو جائے گا اور دونوں ممالک کے درمیان میڈیم اف دی میسج بھی اچھی طرٖ ح ترقی کرے گا۔۔۔۔
کی بنیادی جڑ ہے وہ ہے کشمیر کا مسلہ اور کشمیر ایک ایسا سلگتا ہوا مسلہ ہے جو کبھی بھی "ہارٹ اف ایشیا" کو ہیٹ اف ایشیا میں بد ل سکتا ہے۔ اس مسلہ کے پور امن ، پائیدار اور جمعوری حل کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری عوام کو بھی ان مزاکرات کے عمل میں شامل کیا جائے اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق اس کا حل تلاش کیا جاے۔۔ اور اگر دونون ممالک ایسے کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطہ میں امن و آشتی کے ساتھ ساتھ لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہو جائے گا اور دونوں ممالک کے درمیان میڈیم اف دی میسج بھی اچھی طرٖ ح ترقی کرے گا۔۔۔۔
