برطانیہ کی چھپنوی ⁵⁶ پارلیمنٹ کے عام انتخابات سات مئ کو ہو رہے ہیں . یونائیٹڈ گنگڈم چار مالک یحنی انگلیںنڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے اشتراک پر مبنی ہے.
جنرل انتخابات انتخابی حلقوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، یوـ کے میں کل ⁶⁵⁰ حلقے ہیں اور ہر حلقہ تقربن ساٹھ ہزار ووٹرز پر مشتمل ہوتا ہے.
پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں ایک ایوان
زریں جسے ہاؤس آف کامنز کہتے ہیں جس کے الیکشن ہو رہیں ہیں اور دوسرا ایوان بالا یحنی ہاوس آف لاڈز کہلاتا ہے جسکےعموماً الکیشن نہیں ہوتے اس کے ممبران کا انتخاب وزیر اعظم کی ایما پر ملکہ برطانیہ کے ذریحے کیا جاتا ہے اس کے کچھ ممبران نسل در نسل چلے آتے ہیں اور ان میں بحض کا تقرر ہاوس اف لارڈذ کے مقرر کردہ کمیشن کے تحت کیا جاتا ہے.
ایک روپوٹ کے مطابق برمنگھم سٹی کونسل کے سابق چیف ایگزکٹیو ڈاکٹر خورشید احمد نے عام انتخاب کے طریقہ کار کے بارے میں بات کرتے ہوے کہا اس سال دو الیکشن ایک ساتھ ہو رہےہیں ایک جنرل الیکشن جو پارلیمنٹ کے لیے اور دوسرا لوکل الیکشن جو لوکل باڈیز کے لیے ہیں.
پارلیمنٹ کے ہاوس اف کامنز کی کل ⁶⁵⁰ نشستیں ہیں اور کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے ³²⁶ سیٹیں درکار ہوتی ہیں آگر ایک پارٹی واضح اکثریت نا لے سکے تو مخلوط حکومت بننے کا امکان ہوتا ھے جہسے ماجودہ حکومت تھی.
²⁰¹⁵ کے انتخابات میں سات پارٹیاں حصہ
لے رہی ہیں تاہم مساہل کے حوالے سے محیشت، امیگریشن، سیکیورٹی اور صحت سر فرست ہیں. ان سب ایشوز پر سب پارٹیز نے اپنے اپنے مینی فیسٹو پیش کیے
ہیں تاہم دونوں مینسٹریم پارٹیز لیبر اور کنزرویٹو اب تک اپنے مینی فیسٹو کے تناظر میں اور مساہل پر اپنا جامح لائحہ عمل سامنے لانے میں مختلف پولز اور سروے اور جائزوں کے مطابق ایک دوسرے کے قریب رائے دہندگان کی سپورٹ ظاہر کر رہے ہیں. سات مئی کو قسمت کی دیوی کس پر مہربان ہو گی اس پر بڑے بڑے سیاسی پنڈت اپنی پیشن گوی کرنے سے گریزا ہیں.

No comments:
Post a Comment