سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر اور مرکزی صدر ال جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کے دورہ برطانیہ کے دوران مسلم کانفرنس لوٹن برانچ نے ان کے اعزاز میں کشمیری کمیونٹی عشایئے تقریب کا انحقاد کیا
جس میں برطانیوی پارلیمنٹ کے فرینڈز اف کشمیر کے ممبر اف پارلمنٹ کیلون ہوپکنز، لارڈ بل میکنزی اور کشمیری نزاد برٹش لارڈ قربان حسین کے علاوہ لوٹن برا کونسل کے کونسلرز ،کشمیری بزنس کمیونٹی کے لوگ اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکنان نے کثیر تحداد بھی شرکت
نارتھ لوٹن کے ممبر اف پارلیمنٹ کیلون ہوپکنز نے کہا کہ وہ کشمیر کی آزادی، انصاف اور امن کے لیے اپنی ہماہت ہمیشہ جاری رکھے گے.
لوٹن کے لارڈ بل میکنزی نے کہا ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ھو گا کہ ہم کشمیر ایشو پرکہاں کھڑے ہیں اورہم کو کس قسم کا اپروچ لے کر آگے چلنا چاہیے. یاد رہے کہ کشمیر کوئ شئے نہیں جیسے خرید و فروخت یا بارٹر سسٹم کے تحت حل کیا جاے گا.
کشمیر ایک کڑور پچاس لاکھ انسانی حقوق کی بحالی کا مسلہ ہے جس کی آزادی کی خاطر کشمیریوں نے آج تک تقربنا چھ لاکھ قیمتی جانیں قربان کی ہیں اور پھچلے ستر سال سے کشمیری حالت جنگ میں ہیں اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کو پنڈت جوہر لال نہرو کے کشمیر پر کیے ہوے وعدے کو عملی جامہ پہنانا ہو گا جو اُنہون نے انٹرنیشنل کمیونٹی سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے حوالے سے کیا تھا.
کشمیر ایک کڑور پچاس لاکھ انسانی حقوق کی بحالی کا مسلہ ہے جس کی آزادی کی خاطر کشمیریوں نے آج تک تقربنا چھ لاکھ قیمتی جانیں قربان کی ہیں اور پھچلے ستر سال سے کشمیری حالت جنگ میں ہیں اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کو پنڈت جوہر لال نہرو کے کشمیر پر کیے ہوے وعدے کو عملی جامہ پہنانا ہو گا جو اُنہون نے انٹرنیشنل کمیونٹی سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے حوالے سے کیا تھا.
لارڈ قربان حسین نے اپنے خطاب میں کہا کشمیر کی کریم کسے کہتے ہیں وہ سردار عتیق احمد خان کے بخیر مکمل نہیں. ایک وقت تھا کہ ہمارے پاس کے ایچ خور شید جیسے اعلی دماغ لوگ ماجود تھے لیکن بدقسمتی سے ہم ان سے کوئ کام لے سکے. آج ہمارے پاس سردار عتیق احمد خان جیسے پڑھے لکھے جو کشمیر پر اپنی نماہندگی کی تمام تر صلاحیت رکتھے ہیں ماجود ہیں لیکن ہم ان سےکوئ کام.نہیں لے رہیے.
اگر انہیں ہماری ضرورت پڑھے تو ھم حاضر ہیں کیونکہ یہ کشمیر پر ایک مکمل دسترس رکتھے ھیں یہاں اور بھی بہت سے کشمیری لیڈر آتے ہیں لیکن جو بات سردار عتیق احمد خان کی ہے وہ کسی اور میں نہیں جہاں تک مسلم کانفرنس کا تحلق ھے یہ وہ ایک سیاسی جماعت ھے جس سے بہت سی جماعتوں نے جنم لیا لیکن کامیاب نا ھو سکی مسلم کانفرنس کی جیڑیں بہت مضبوط ہیں
اگر انہیں ہماری ضرورت پڑھے تو ھم حاضر ہیں کیونکہ یہ کشمیر پر ایک مکمل دسترس رکتھے ھیں یہاں اور بھی بہت سے کشمیری لیڈر آتے ہیں لیکن جو بات سردار عتیق احمد خان کی ہے وہ کسی اور میں نہیں جہاں تک مسلم کانفرنس کا تحلق ھے یہ وہ ایک سیاسی جماعت ھے جس سے بہت سی جماعتوں نے جنم لیا لیکن کامیاب نا ھو سکی مسلم کانفرنس کی جیڑیں بہت مضبوط ہیں
روزنامہ کشمیر آبزرور کی نماہندگی کرتے ھوے راقم نے سردار عتیق احمد خان سے سوال کیا... " ماجودہ عالمی تناظر میں تحریک آذادی کشمیر مختلف نظریات میں بٹی ھوی اور بین القوامی سطح پر کمزور نظر آتی ہے کیا اس بنیادی وجہ لیڈرشپ کا فقدان ھے یا اتحاد و فکر وعمل کی کمی ؟
اس کے جواب میں سردار صاحب نے کہا اس وقت ریاست کے اندر دو ہی نظریے ماجود ہیں ایک الحاق پاکستان اور دوسرا خود مختار کشمیر جہاں تک تحریک کی کمزوری کا تحلق ھے تو ایسی بات بلکل نہیں اگر آج نو نو سال کے بچے تحریک کےلیے شہد ہو رہے ھے تو یہ تحریک کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ھے اور رہی بات بین القوامی سطح پر کشمیر کی تحریک کی کمزوری کی تو اس کا دارو مدار پاکستان کی فارن پالیسی کی کمیابی یا ناکامی پر منصر ھے اور دوسرا کشمیریوں کا باہم منظم نا ھونا بھی ایک وجہ ھے. رہی بات کشمیری لیڈرشپ کی تو مقصد تو سب کا ایک ھئ ھے لیکن اسٹراٹیجی کا فرق ضرور ھے.
اس کے جواب میں سردار صاحب نے کہا اس وقت ریاست کے اندر دو ہی نظریے ماجود ہیں ایک الحاق پاکستان اور دوسرا خود مختار کشمیر جہاں تک تحریک کی کمزوری کا تحلق ھے تو ایسی بات بلکل نہیں اگر آج نو نو سال کے بچے تحریک کےلیے شہد ہو رہے ھے تو یہ تحریک کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ھے اور رہی بات بین القوامی سطح پر کشمیر کی تحریک کی کمزوری کی تو اس کا دارو مدار پاکستان کی فارن پالیسی کی کمیابی یا ناکامی پر منصر ھے اور دوسرا کشمیریوں کا باہم منظم نا ھونا بھی ایک وجہ ھے. رہی بات کشمیری لیڈرشپ کی تو مقصد تو سب کا ایک ھئ ھے لیکن اسٹراٹیجی کا فرق ضرور ھے.

No comments:
Post a Comment